ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈبلیوسی ڈي وزارت کو پوسٹ آفس کی وزارت کے تصویر سے باہر نکالنا سب سے بڑا چیلنج تھا: مینکا گاندھی

ڈبلیوسی ڈي وزارت کو پوسٹ آفس کی وزارت کے تصویر سے باہر نکالنا سب سے بڑا چیلنج تھا: مینکا گاندھی

Mon, 04 Mar 2019 12:55:57    S.O. News Service

نئی دہلی، 4 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی وزیربرائے خواتین واطفال مینکا گاندھی نے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد اس وزارت کی وضاحت کرنا اور اسے پوسٹ آفس وزارت کے تصویر سے باہر نکالنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔مینکا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مظفر پور شیلٹرہوم کو بہار حکومت کے آخر کار بند کرنے سے چھ ماہ پہلے اس (ریاستی حکومت کو) یہ معلومات دینا ایک غلطی تھی کہ وہاں کچھ غلط ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس کا (شیلٹرہوم) آپریشن ایک این جی او کرتا تھا جسے مرکزی اور ریاستی دونوں سے فنڈز ملتا تھا۔مینکا نے کہا کہ ہمیں یہ معلومات ملی تھی کہ مظفر پورشیلٹرہوم میں کچھ شدید گڑبڑ چل رہی ہے اور اس بارے میں معلومات ریاستی حکومت سے شیئر کر دی گئی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں خواتین اور بچوں کے مسائل سے نمٹنے میں اپنے سامنے پیش آئے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے مینکا نے کہا کہ جب انہوں نے وزارت کا عہدہ سنبھالتا تھا تو ان کی وزارت کا ایک محض کام آنگن باڑی اہلکاروں کو تنخواہ دینا بھر تھا۔انہوں نے نامہ نگاروں سے کہاکہ شروع میں سب سے بڑا چیلنج وزارت کی وضاحت کرنی تھی۔یہ وزارت 10 برسوں سے موجود تھی لیکن وہ جانچ تھی،یہ صبح سے شام تک ہڑتال پر رہنے والے آنگن باڑی اہلکاروں کو تنخواہ دینے والا محض ایک پوسٹ آفس وزارت جیسی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے وزارت کا عہدہ سنبھالا، اس وقت ان کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج پورے ملک کی رائے لینے کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا تھا۔وزیر نے کہا کہ ہم نے تمام چیزوں کو پالیسی، دفاع اور اقتصادی تعمیر نو تین اقسام میں تقسیم کرنا شروع کیا،پھر ہم نے مرکزی دتک وسائل اتھارٹی (کارا) کا تنظیم نو کیا، جو تقریبا بند تھا،اس کے بعد ہم نے قومی خواتین فنڈ پر کام کیا، جو اس وقت 60 کروڑ روپے کے قرض میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اطفال حقوق تحفظ کمیشن کی وضاحت کرنا ایک اور چیلنج تھا،ہم جانتے تھے کہ یہ بچوں کے لئے تھا لیکن یہ بچوں کے لئے کیا کرتا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے عہدہ سنبھالا، اس وقت قومی خواتین کمیشن میں 18000 شکایات زیر التواء تھیں۔انہوں نے کہاکہ اب قومی خواتین کمیشن میں ایک قانونی مشاورت بورڈ ہے،اب وزارت ہر چیز پر جواب دیتی ہے۔


Share: